ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اتر پردیش: داڑھی رکھنے کے سبب مسلم پولس اہلکار کے خلاف کارروائی پر ہنگامہ

اتر پردیش: داڑھی رکھنے کے سبب مسلم پولس اہلکار کے خلاف کارروائی پر ہنگامہ

Fri, 23 Oct 2020 22:05:00    S.O. News Service

لکھنؤ،23؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) داڑھی رکھنے کی وجہ سے باغپت سب انسپکٹر انتشار علی کے خلاف ہوئی کارروائی کے بعد مسلم طبقہ میں کافی ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے علماء نے اس عمل پر غصہ کا اظہار کرتے ہوئے باغپت پولس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) ابھشیک سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھشیک سنگھ نے ہی انتشار علی کو داڑھی رکھنے کی وجہ سے معطل کیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے علماء کا کہنا ہے کہ انتشار علی کے خلاف جو کارروائی ہوئی ہے وہ غلط ہے اور ان کی معطلی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایس پی کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

اتحاد علمائے ہند کے قومی صدر مولانا قاری مصطفیٰ دہلوی نے اس تعلق سے کہا کہ مسلم پولس اہلکار کے خلاف تعصب کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے اور اس عمل کی مذمت کی جانی چاہیے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایس پی کے خلاف کارروائی کرے۔ کچھ علماء نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا سے کہا کہ یہ کارروائی مذہبی منافرت کا نتیجہ ہے جسے درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں باغپت کے سب انسپکٹر انتشار علی کو بغیر اجازت داڑھی رکھنے کی وجہ سے معطل کر دیا گیا اور پولس لائنس بھیج دیا گیا ہے۔ میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق انتشار علی کو داڑھی ہٹانے کے لیے تین بار تنبیہ کی گئی تھی اور داڑھی بڑھانے کو لے کر اجازت لینے کے لیے بھی کہا گیا تھا، لیکن انھوں نے بغیر اجازت داڑھی کو بڑھانا جاری رکھا۔ حالانکہ جب میڈیا نے انتشار علی سے اس سلسلے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ "میں نے داڑھی رکھنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔"

باغپت کے پولس سپرنٹنڈنٹ ابھشیک سنگھ کا کہنا ہے کہ پولس مینوئل کے مطابق صرف سکھوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت ہے جب کہ دیگر سبھی پولس اہلکاروں کو چہرہ صاف ستھرا رکھنا ضروری ہے۔ ایس پی نے کہا کہ "اگر کوئی پولس اہلکار داڑھی رکھنا چاہتا ہے تو اسے اس کی اجازت لینی ہوگی۔ انتشار علی سے بار بار اجازت کے لیے کہا گیا، لیکن انھوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور بغیر اجازت کے داڑھی رکھ لی۔"


Share: